خدا سے ہم کلامی
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۴
خدا سے ہم کلامی
ایک حدیث رسول میں مومن کی صفت بتانے کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: یناجی ربه (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405) ۔ یعنی مومن اللہ رب العالمین سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس کو ہمیشہ اللہ سے ہم کلامی کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔
A believer is always in contact with God
غیر مومن کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے دوست سے سرگوشی کرتا رہتا ہے(یناجی صدیقه)۔ لیکن مومن وہ ہے جو معرفت کے درجہ میں اللہ کو دریافت کرے۔ اپنی ربانی سوچ کی بنا پر اس کو اللہ سے قربت کا تجربہ ہونے لگے۔ وہ محسوس کرنے لگے کہ میں اللہ کے پاس ہوں یا اللہ میرے پاس ہے۔ جب کسی شخص کو یہ ربانی تجربہ ہوتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ وہ سرگوشی (whisper) کی زبان میں اللہ سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے انسپریشن (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں پہنچ گیا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے اللہ کا پڑوسی بن گیا ہے۔ اس حدیث میں بندہ اور رب کے درمیان جس مناجات کا ذکر ہے، اس کی تصدیق قرآن سے بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔
بندے کی پکار کا اللہ تک پہنچنا انھیں الفاظ میں ہوتا ہے جن الفاظ میں بندے نے اپنے رب کو پکارا ہے۔ بندہ جب پکارتا تو اس کا رب اس کو اسی وقت حقیقی طور پر سن لیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ کا جواب کس طرح انسان تک پہنچتا ہے۔ یہ الفاظ کے اعتبار سے نہیں ہوتا بلکہ وجدان (intuition) کی سطح پر کیفیت (feeling) کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن لفظوں میں اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues