Al-Risala · February 2017 · page 36

سیکنڈری چوائس

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

سیکنڈری چوائس

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ ابتدائی ربع صدی تک اسلام میں اصولی خلافت قائم رہی۔ اس کے بعد خاندانی خلافت (dynasty-based khilafat) قائم ہوگئی، جو آخر وقت تک چلتی رہی۔ یہ کوئی برائی (evil) کی بات نہیں ہے بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی بات ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب پہلا انتخاب (first choice) ممکن نہ ہو تو سیکنڈری چوائس (secondary choice) پر راضی ہو جاؤ۔

خاندانی خلافت کا کم از کم یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں استحکام (stability) کا قیام ممکن ہو گیا۔ اس استحکام کی بنا پر بعد کے زمانہ میں اسلام کا ڈھانچہ مسلسل طور پر باقی رہا۔ عبادت کا نظام، اسلامی تعلیم کا نظام، اسلام پر مبنی معاشرہ کم از کم فارم کے درجہ میں قائم رہا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ علماء اسلام، خاندانی خلافت کے نظام پر راضی ہوگئے۔ اگر وہ اصولی خلافت پر اصرار کرتے تو اسلام کی تاریخ میں استحکام (stability) موجود نہ رہتا۔

سیکنڈری چوائس زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ زندگی میں اکثر لوگ اپنے معاملات میں فرسٹ چوائس کو لینا چاہتے ہیں، مگر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو نہ فرسٹ چوائس ملتا ہے، نہ سیکنڈ چوائس۔ زیادہ بہتر پانے کی کوشش میں کم بہتر بھی ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

سیکنڈری چوائس لینا، اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی کمی کی بات نہیں۔ یہ صرف آغاز (beginning) کی بات ہے۔ اس دنیا میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی ممکن حالت سے اپنے عمل کا آغاز کرے ۔ اگر وہ دانش مند منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گا تو یقیناً وہ اعلیٰ کامیابی تک پہنچ جائے گا۔ فرسٹ چوائس اور سیکنڈری چوائس صرف آغازِ کار کی بات ہے، وہ انجام کار کا معاملہ نہیں۔ اس راز کو جاننا بلا شبہ زندگی کا اہم ترین اصول ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں، وہ اپنے آپ کو غیر ضروری مسائل میں مبتلا کر لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page