ذہن تربیت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۸
ذہن تربیت
ذہن سازی ایک اہم ترین کام ہے۔ لیکن ذہن سازی کبھی یہ کرو، وہ نہ کرو (dos and don'ts) کی زبان میں نہیں ہوتی۔ ذہنی سازی کا آغاز سب سے پہلے یہاں سے ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر فکری عمل (intellectual process) جاری کیا جائے۔
فکری عمل جاری کرنا مربی کا کام ہے اور فکری عمل کو آخری حد تک پہنچانا زیرِ تربیت فرد کا کام ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ لِّکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (57:23)۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں غم کے واقعات دراصل ذہنی صدمہ (intellectual shock) کے لئے ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ہلچل پیدا کی جائے۔ اس کے ذہن میں سوچ کا عمل (process) جاری ہو۔ آدمی کی تخلیقیت میں اضافہ ہو، یہاں تک کہ وہ خود اپنی سوچ کے تحت ایک حقیقت تک پہنچے۔ آدمی کا مزاج یہ ہے کہ وہ ذاتی تجربہ سے سیکھتا ہے نہ کہ صرف بتا دینے سے۔
ذہنی تربیت ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس کے نصف حصے کا تعلق مربی سے ہے، اور بقیہ نصف حصے کا تعلق اس سے جس کی تربیت مقصود ہے۔ دو طرفہ ارادہ اور دو طرفہ کوشش کے بغیر تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔
مربی کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرے، وہ زیرِ تربیت فرد یا افراد کے کیس کو گہرائی کے ساتھ سمجھے۔ ضروری مطالعے کے بعد وہ تربیت کی مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کرے۔ تربیت کے معاملے میں مربی کا صرف عالم ہونا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ مربی زیر تربیت افراد کا مکمل خیر خواہ ہو۔ تربیت نام ہے تین چیزوں کے مجموعے کا— علم، حکمت اور خیر خواہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues