Al-Risala · February 2017 · page 41

غصہ کیوں آتا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱

غصہ کیوں آتا ہے

غصہ ایک عام برائی ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ غصہ ہو جاتے ہیں۔ غصہ ہمیشہ شکایت سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ نفرت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ نفرت مزید بڑھ کر عناد (enmity) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کرتا ہے کہ جس آدمی پر اس کو غصہ آیا اس کو ہر اعتبار سے وہ نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح یہ ثابت ہو کہ وہ غصہ کرنے میں درست تھا۔ غصہ کی اصل جڑ انانیت (ego) ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بے شعوری کی بنا پر اپنے اندر وہ صفت پیدا نہیں کر پاتے جس کو آرٹ آف ایگو مینجمنٹ (art of ego management) کہا جاتا ہے۔ جو آدمی اس آرٹ کو جانے وہ اپنی ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ وہ اپنے ایگو کو اپنے عقل کے تابع رکھے نہ کہ خودا یگو (ego) کے تابع ہو جائے۔ غصہ فطرت کا ایک ظاہر ہے۔ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر غصہ کے جذبات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن غصہ کی ایک صورت محمود ہے، اور دوسری صورت غیر محمود۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو سمجھے۔ کیوں کہ غصہ کی محمود صورت جائز ہے، جب کہ غصہ کی غیر محمود صورت ایک گناہ ہے۔ غصہ کی غیر محمود صورت وہ ہے جو غرور (arrogance) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی اپنے کو بڑا، اور دوسرے کو چھوٹا سمجھنا۔ اس بنا پر اپنے خلاف بات سن کر بھڑک اٹھنا۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ اور کبر بلاشبہ ایک گناہ ہے۔ محمود غصہ وہ ہے جو اصول پسندی کی بنا پر کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک آدمی اصول پسند (man of principle) ہو تو وہ اصول کے معاملے میں حساس (sensitive) ہو جائے گا۔ اس بنا پر وہ خلاف اصول بات کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ شدید انداز میں اس کے خلاف نگیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ بظاہر غصہ ہوتا ہے لیکن حقیقہ وہ شدت اظہار ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page