Al-Risala · March 2018 · page 10

امت مسلمہ کی ذمہ داری

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۰

صورت میں گویا مدعوو خود داعی کے دروازے تک پہنچ گیا۔ لوگوں میں کھلا پن (openness) کا مزاج پیدا ہوا، جس کی بنا پر لوگ غیر متعصبانہ انداز میں مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے اسباب اہل دین کے لیے تائید (support) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اہل دین ان کو استعمال کر کے قرآن کے اعلان اور پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اہل دین ہر قسم کے منفی خیالات کو چھوڑ کر اٹھیں اور خالص مثبت ذہن کے تحت قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ تا کہ انسان اس خدائی ہدایت سے رہنمائی لے کر اپنی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنا سکے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی عالمی تبلیغ کا مطلوب مشن آخری حد تک ممکن ہو چکا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کی شرط صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ وہ پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے، تمام قوموں تک قرآن کا پیغام پہنچا دے۔

ہر انسان پیدائشی طور پر حق کا متلاشی ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت کے زور پر حق کا طالب بنا ہوا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی غلط سوچ کے تحت نفرت اور تشدد کے کلچر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس کلچر نے داعی اور مدعو کے درمیان دوری کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کے موجودہ کلچر کو ختم کر دے، اور پوری طرح امن کا ماحول قائم کر دے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ قرآن کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے گا۔ آج امت مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو ختم کر کے امن کلچر کو اپنائے، اور دعوت کی پرامن پلاننگ (peaceful planning) کرے، اور خالص پر امن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی دعوتی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔ مادی تہذیب موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کو جس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں، اس تہذیب کو عام

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page