Al-Risala · March 2018 · page 12

سائنس کی شہادت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲

انسان اپنے سفر معرفت کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھے، وہ اپنے آپ کو مطلوب الہی کے مطابق ایک سیلف میڈ مین (self-made man) کی حیثیت سے ڈیولپ کرے۔

سائنس کی شہادت

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56: یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبداللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاهد: إلا ليعبدون: ليعرفون) (البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/ 562 یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔ قال ابن جريج : إلا ليعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جرج نے کہا: تا کہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔ اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کا من سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کا من سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ کا من سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page