مقالید السماوات والارض
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۴
مقالید السماوات والارض
قرآن میں اللہ رب العالمین کی قدرت کو مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: لَهُ مَقَالِیدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَیَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِیمٌ (42:12)۔ یعنی اسی کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم کر دیتا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پوری کائنات کا سوچ بچور ڈر اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ وہ جس سوچ کو چاہے آن کرے، اور جس سوچ کو چاہے آف کر دے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ صرف اللہ رب العالمین پر بھروسہ کرے۔ وہ مانگے تو اللہ رب العالمین سے مانگے۔ وہ امید رکھے تو صرف اللہ رب العالمین سے امید رکھے۔ اس معاملے میں اس کا یقین اتنا بڑھا ہوا ہو کہ وہ اللہ رب العالمین سے کبھی اور کسی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہو۔ یہ یقین کسی انسان کے اندر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ اللہ رب العالمین کو شعور کی سطح پر دریافت کرلے۔
ایک اور مقام پر اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ (63:7)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔
اس آیت میں منافقین سے مراد کوئی فرقہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو زبان سے اللہ کا اقرار تو کریں، مگر اللہ پر ان کا اقرار دریافت (discovery) کے درجے تک نہ پہنچا ہو۔ اس بنا پر ان کا اقرار یقین کی کیفیت سے خالی ہو۔ وہ لپ سروس (lip service) کے درجے میں اللہ کو مانتے ہوں، لیکن اللہ کا عقیدہ ان کی شخصیت سازی میں موثر عامل کی حیثیت سے شامل نہ ہوا ہو۔ وہ اللہ کو مانیں، مگر اللہ ان کے لیے یقین کا سرمایہ نہ بنا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues