Al-Risala · April 2018 · page 7

اللہ کا ذکر

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۷

اللہ کا ذکر

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألا أنبئكم بخير أعمالكم، وأزكاها عند مليككم، وأرفعها في درجاتكم وخير لكم من إنفاق الذهب والورق، وخير لكم من أن تلقوا عدوكم فتضربوا أعناقهم ويضربوا أعناقكم؟ قالوا: بلی. قال: ذکر اللہ تعالی (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3377)۔ یعنی کیا میں تمھیں سب سے بہتر اعمال کے بارے میں نہ بتاؤں۔ وہ تمہارے بادشاہ کے نزدیک بہت پاکیزہ ہے، وہ تمہارے درجات کے لیے سب سے بلند ہے، ہے،اوروہ تمہارے لیے بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے اور وہ اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے دشمنوں سے ملو: تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں؟ صحابہ نے کہا کہ کیوں نہیں؟ آپ نے کہا: اللہ کا ذکر۔

یہاں ذکرِ اللہ سے مراد اللہ کا لفظی ورد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد اللہ کی شعوری یاد (intellectual remembrance) ہے۔ یہ یاد شعوری یا نان اسٹاپ (non-stop) انداز میں ہر وقت مطلوب ہے۔ یہ شعوری یاد کسی قسم کے روٹین کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ حقیقت کی دریافت کے نتیجے میں ذہن انسانی میں خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک زندہ اور تخلیقی سوچ ہے۔ جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (91-3:190)۔ یہ اعلیٰ ذکر کسی انسان کے اندر اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ وہ گہرے غور وفکر کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے ۔ یہ دریافت اتنی کامل ہو کہ وہ سوچ پر غالب آجائے ، اس کی شخصیت اسی دریافت میں ڈھل جائے۔ وہ اس کے صبح وشام کا نا گزیر اثاثہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page