آخرت کا مضمون
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱
آخرت کا مضمون
ایک آدمی قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرے، وہ صحابہ کے حالات کو پڑھے۔ اگر وہ سنجیدہ ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کی سوچ آخرت رخی سوچ بن جائے۔ وہ آخرت کے مضمون پر لکھنا اور بولنا شروع کر دے۔ لیکن عین ممکن ہے کہ اب بھی اس کا لکھنا آخرت نویسی کے ہم معنی ہو۔ فنی اعتبار سے صحیح ہونے کے باوجود اس کے لکھنے اور بولنے میں آخرت کا گہرا ادراک شامل نہ ہو۔ لیکن آدمی اگر لمبی عمر پائے۔ اس پر بیماری اور حادثات کے حالات گزریں، یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو جائے۔ اس پر بڑھاپے کے حالات گزریں۔ وہ عجز اور کمزوری کے حالات سے دوچار ہو۔ اگر ایسا ہو تو اس کا آخرت کا علم آخرت کا گہرا احساس بن جائے گا۔ پہلے اگروہ آخرت کے اوپر لکھتا تھا تو اب وہ آخرت میں جینے والا بن جائے گا۔
جو آدمی اپنی عمر کے لحاظ سے آخرت میں جینے کے دور میں پہنچ جائے، اس کے لیے آخرت ایک ایسا موضوع بن جائے گا جس کا وہ ذاتی طور پر تجربہ کر رہا ہے۔ پہلے اگروہ آخرت کو پڑھتا تھا، تو اب وہ آخرت کو دیکھنے والا بن جائے گا۔ پہلے اگروہ آخرت پر معلومات دیا کرتا تھا تو اب وہ ایسا انسان بن جائے گا، جو گویا کہ آخرت کا ذاتی تجربہ کر رہا ہے۔ پہلے اگروہ آخرت نویسی کرتا تھا، تو اب وہ آخرت کے موضوع پر تجربہ نویسی کے مرحلہ میں پہنچ جائے گا۔
ایسا آدمی بہت قیمتی ہوتا ہے۔ دوسروں کو چاہیے کہ وہ اس کی قدر کو پہچانیں ۔ وہ اس کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اس کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ کسی کی تحریر و تقریر سے آپ کو معلومات مل سکتی ہیں، لیکن تجربہ کار سے جو چیز ملتی ہے، وہ اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی آخرت والا بن جانا۔ تاہم تجربہ کا دور اسی آدمی کے لیے مفید ہو سکتا ہے جو بڑھاپے سے پہلے آخرت کو جاننے والا ہو۔ وہ قرآن وحدیث کے ذریعہ آخرت کا علم حاصل کرنے کے بعد آخرت میں جینے کی کوشش کرنے والا بن چکا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues