Al-Risala · May 2018 · page 13

امت کا رول

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳

بنا سکے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی عالمی تبلیغ آخری حد تک ممکن ہو چکی ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کی شرط صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کردے۔ وہ پرامن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے، تمام قوموں تک قرآن کا پیغام پہنچادے۔

ہر انسان پیدائشی طور پر حق کا متلاشی ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت کے زور پر حق کا طالب بنا ہوا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی غلط سوچ کے تحت نفرت اور تشدد کے کلچر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس کلچر نے داعی اور مدعو کے درمیان دوری کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کے موجودہ کلچر کو ختم کردے، اور پوری طرح امن کا ماحول قائم کردے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ قرآن کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے گا۔ آج امت مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو ختم کر کے امن کلچر کو اپنائے ، اور دعوت کی پرامن پلاننگ (peaceful planning) کرے، اور خالص پرامن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔

دعوت کی اس عالمی مہم کے لیے دوسرے معروف طریقوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ خالص مثبت ذہن کے تحت اعلیٰ معیار کا ایک ٹی وی چینل قائم کیا جائے۔ اس کے ذریعے تمام بڑی بڑی زبانوں میں دعوتی پروگرام نشر کیے جائیں۔ یہ کام مکمل طور پر پر امن دعوت کے تصور کے تحت کیا جائے۔ اس میں نہ مسلمانوں کی مفروضہ مظلومیت کی داستان کا ذکر ہو اور نہ مسلم فخر کا تذکرہ کیا جائے۔ اس ٹی وی کی نشریات تمام تر دعوت الی اللہ کے اصول پر مبنی ہوں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی نشریات لازمی طور پر عصر حاضر کے اسلوب میں ہوں تا کہ وہ آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس کر سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے اس بات کو پوری طرح ممکن بنا دیا ہے کہ خداوند رب العالمین کا پیغام ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچ جائے۔ عالمی دعوت کا یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے: ہے:ہَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page