Al-Risala · May 2018 · page 36

عظمتِ رفتہ کی بازیابی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶

عظمتِ رفتہ کی بازیابی

عظمتِ رفتہ کی بازیابی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ایک محبوب موضوع ہے۔ عظمتِ رفتہ کی بازیابی کا مطلب ہے امت مسلمہ کے سیاسی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنا، یا اگر سیاسی اصطلاح سے اعراض کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ملت کی تہذیبی عظمت کی بازیافت۔ سوسال سے بھی زیادہ مدت سے تقریبا تمام مسلم رہنما اس کو اپنا محبوب مقصد بنائے ہوئے ہیں، خواہ وہ عرب رہنما ہوں یا غیر عرب رہنما۔ ان حضرات کی تحریر و تقریر سے معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ قرآن یا حدیث کے کس حوالے سے انھوں نے یہ نشانہ اخذ کیا ہے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملہ میں کوئی بھی حقیقی حوالہ ان کے پاس موجود نہیں ۔ یہ مسلمانوں کے قومی جذبات کی ترجمانی ہو سکتی ہے، لیکن وہ قرآن و حدیث سے اخذ کردہ کوئی ثابت شدہ مقصد نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق، عظمتِ رفتہ کی واپسی کوئی مقصد نہیں بن سکتا۔ اس نشانے کو اگر مادی معنی میں لیا جائے تو وہ ایک بے معنی اصطلاح ہوگی۔ کیوں کہ مادی ترقی کے اعتبار سے زندگی ہمیشہ آگے بڑھتی ہے، وہ کبھی پیچھے کی طرف سفر نہیں کرتی۔ اس لیے مادی اعتبار سے اگر ملت کی منزل متعین کی جائے تو وہ یہ ہونا چاہیے کہ جدید تہذیب میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کو دور کیا جائے، اور مسلمانوں کو جدید معنی میں تعلیم و ترقی کے درجے تک پہنچایا جائے۔ اور اگر واپسی کے اس نشانے کو قرآن و حدیث کے معنی میں لیا جائے تو اس کو امام مالک کے استاذ، صالح بن کیسان کے الفاظ کے مطابق ہونا چاہیے ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: لا يُصْلِحُ آخر هذهِ الأُمَّةِ إِلا مَا أَصْلَحَ أَوَّلَها (مسند الموطا للجو ہری، اثر نمبر 783)۔ یعنی اس امت کے آخر کی اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے، جس طرح اس کے پہلے کی ہوئی ۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان کرنے کا کام یہ ہے کہ ان کے اندر دعوت کا شعور پیدا کیا جائے ، ان کو دور اول کے اہلِ ایمان کی طرح دعوت الی اللہ کے نشانے پر کھڑا کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page