Al-Risala · May 2018 · page 38

دین اکابر

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸

دین اکابر

دورِ زوال میں کسی امت کا حال کیا ہوتا ہے، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ (9:31)۔ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کورب بنا لیا۔ اخبار اور رہبان کو رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اکابر کو اتنا بڑا درجہ دیا کہ عملاً وہی لوگ ان کے لیے دین کا ماخذ بن گئے۔ یہاں تک کہ لوگ عملاً دین خداوندی کے بجائے دین اکابر پر قائم ہوگئے۔

کسی امت کی یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب کہ اللہ رب العالمین کے بارے میں ان کا عقیدہ محض رسمی عقیدہ بن جائے، وہ زندہ عقیدہ کی حیثیت سے ان کے درمیان باقی نہ رہے۔ اس وقت ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفروضہ اکابر کو بڑے بڑے القاب دینے لگتے ہیں۔ مثلاً امام، شیخ الاسلام، مجدد کامل، فقیہ الامت، حکیم الامت، حکیم الاسلام، امام اعظم، وغیرہ۔ اس طرح کے بڑے بڑے القاب دینے کی بنا پر ان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ علم کے بارے میں یہ لوگ آخری شخص بن گئے۔ تجدید اور اجتہاد کا عمل ان کے اوپر ختم ہوگیا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو وہ اپنے بڑوں کو پیغمبر تو نہیں کہتے، لیکن عملاً وہ ان کو دین میں پیغمبر جیسا درجہ دیتے ہیں۔

یہ تنزل کا آخری درجہ ہے۔ جب امت میں یہ درجہ آتا ہے تو امت کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اجتہادی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ تقلید کو دین سمجھ لیتے ہیں، اور اجتہاد کو بے دینی۔ ان کی سوچ کی آخری حد یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے مفروضہ اکابر کے ملفوظات کو دہراتے رہیں۔ وہ اپنے بڑوں کی رایوں کو تفقه کا اعلیٰ درجہ سمجھ لیتے ہیں۔ زوال کے اس حد پر پہنچنے کے بعد ان کا وہی درجہ ہو جاتا ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (7:179)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page