Al-Risala · May 2018 · page 43

مشتبہ اظہارِ رائے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳

مشتبہ اظہارِ رائے

کچھ لوگوں کا طریقہ ہے کہ وہ کسی کے بارے میں کھل کر رائے نہیں دیتے، البتہ وہ اس کے بارے میں مشتبہ اظہارِ رائے (doubtful comment) دیتے ہیں۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو 6ھ کے آخر میں پیش آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومن ایمپائر کے بادشاہ ہرقل کو دعوتی مکتوب بھیجا۔ اس وقت ہرقل (Hercules) فلسطین میں موجود تھا۔ اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس مکتوب کے ملتے ہی ہرقل نے ابوسفیان کو بلایا جو کہ تجارتی سفر کے سلسلے میں اس وقت فلسطین میں موجود تھے۔ ان سے ہرقل کے جو سوالات اور جوابات ہوئے ان میں سے ایک یہ تھا: قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلُ فِيهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7)۔ ہرقل نے پوچھا، کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے، ابوسفیان نے کہا: نہیں، اور ہم اس سے ابھی ایک معاہدہ کی مدت میں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم وہ اس میں کیا کرے گا۔

اس واقعے میں ابوسفیان، جو اس وقت اسلام نہیں لائے تھے۔ ان کو صرف یہ کہنا تھا کہ نہیں۔ مگر اس کے بعد انھوں نے اپنے جواب میں جو بات (وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلُ فِيهَا) کہی۔ یہ رسول اللہ کے کردار کے بارے میں ایک مشتبہ بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قسم کا مشتبہ بیان اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز نہیں۔

اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی وہ بات کہے جو عملاً واقعہ بن چکا ہو۔ جو بات واقعہ نہیں بنی، اس کو بیان کرنا زیر بحث شخصیت کے کردار کو مشتبہ بنانے کے ہم معنی ہے۔ یہ طریقہ بلا شبہ درست طریقہ نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ خیر (ثابت شدہ) بات بولے، ورنہ چپ رہے: وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔ یعنی جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کہے، یا چپ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page