Al-Risala · June 2018 · page 13

اسفل سافلین کیوں

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳

اسفل سافلین کیوں

قرآن کی سورۃ التین میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا، اس کے بعد اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ایک اور حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 91)۔ یعنی جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں ذرے کے برابر کبر ہو۔

انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عمومی طور پر اس کا حال یہ ہے کہ وہ احسن تقویم کا تحمل نہیں کرپاتا۔ وہ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کسی کے اندر یہ نفسیات کم ہوتی ہے، اور کسی کے اندر زیادہ۔ انسان کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج ہو، اور یہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ انسان آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size) ہو جائے۔ جب انسان کٹ ٹو سائز ہوتا ہے، اس وقت اس کے اندر تواضع (modesty) آتا ہے۔ وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اس کے اندر اپنے محاسبے کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ متکبر انسان کے بجائے متواضع انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر خود پسندی کے بجائے خدا پسندی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ آخری حد تک سنجیدہ (sincere) بن جاتا ہے۔ اس کے ذہن کی تمام بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں، یہ صفتیں آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائے۔

یہ صفات آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اس دنیا میں اللہ رب العالمين کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں عبد بن جائے۔ وہ قادر مطلق خدا (all-powerful God) کے مقابلے میں عاجز مطلق (all powerless) کی دوسری حد (extent) بنائے انسان چوں کہ اس دنیا میں ایک مکرم مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے تمام انسان کسی نہ کسی درجے میں کبر (arrogance) کا کیس بن جاتے ہیں۔ یہ نفسیات انسان کی ترقی میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page