Al-Risala · June 2018 · page 19

بے نقص کائنات

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

بے نقص کائنات

ہماری کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ قرآن میں اس کائناتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ - ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِير (67:3-4)۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان، اوپر نیچے، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار لوٹاؤ نگاہ کو، نگاہ نا کام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔

موجودہ زمانے میں کائنات کا مطالعہ نہایت وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے۔ دوربین اور خورد بین کے ذریعے انسان مشاہدہ کی اس حد تک پہنچ گیا ہے، جو پہلے بالکل ممکن نہ تھا۔ اس مشاہدے کے ذریعے انسان کائنات کے بڑے اجسام سے بہت زیادہ واقف ہو گیا ہے، اور کائنات کے چھوٹے اجسام سے بھی۔ اس مشاہدے نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ قرآن کا دعویٰ مکمل طور پر ایک صحیح دعویٰ ہے۔ اب یہ ایک مسلم حقیقت بن گئی ہے کہ کائنات بے حد منظم کائنات ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کا نقص (defect) موجود نہیں ۔

موجودہ زمانے میں انسان نے ٹکنالوجی کی دنیا میں بہت زیادہ ترقی کی ہے ۔ انسان نے بہت زیادہ چاہا کہ انسانی دنیا کے مینجمنٹ کو زیر و ڈیفیکٹ مینجمنٹ کی سطح تک پہنچائے۔ مگر غیر معمولی کوششوں کے باوجود انسان زیر و ڈیفیکٹ مینجمنٹ کی سطح پر اپنے کسی نظام کو قائم نہ کر سکا۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں مضامین لکھے گئے ہیں، اور کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ ان میں سے انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل یہ ہے:

The Concept of Zero Defects in Quality Management, by Ms Chandana Das

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page