کتاب هدایت
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶
کتاب هدایت
انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ حالات کے مطابق زندگی گزارتا ہے، اور پھر ایک دن مر جاتا ہے۔ سروے کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کی اوسط عمر تقریباً 70 سال ہے۔ انسان کی سب سے زیادہ اہم ضرورت یہ ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس کا حال کیا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہے۔ موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ان حقیقتوں کی دریافت پر انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔
قرآن اسی حقیقت کو بتانے کے لئے اترا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ خالق کا تخلیقی نقشہ انسان کے بارے میں کیا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کا موضوع تخلیقی منصوبہ (creation plan) ہے۔ قرآن انسان کو وہ ضروری معلومات دیتا ہے جس کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کا صحیح منصوبہ (right planning) بنا سکے۔ ایسی حالت میں حاملین قرآن کی یہ لازمی ڈیوٹی ہے کہ وہ قرآن کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اور یہ پہنچا نا لوگوں کی قابلِ فہم زبان (understandable language) میں ہو، تاکہ وہ اس کو سمجھیں اور قرآن کو ایک رہنما کتاب (guide book) بنا سکیں ۔ قرآن کے نزول کو تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ اس مدت میں حاملین قرآن نے قرآن کے متن کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان جو مطلوب کام ہے وہ ابھی تک نہ ہو سکا۔
قرآن کے متن کی حفاظت پر تو بہت زیادہ کام ہوا لیکن قرآن کی اشاعت کا کام جیسے ہونا چاہیے تھا، وہ اب تک نہ ہو سکا ہے۔ اس معاملے میں مسیحی لوگوں نے حاملین قرآن کے لئے راستہ دکھا دیا ہے۔ مسیحی لوگوں نے دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو سمجھا، اور لوگوں کی قابل فہم زبانوں میں بائبل کے ترجمے تیار کیے ہیں۔ یہی کام حاملین قرآن کو قرآن کے لیے کرنا ہے، اور پھر تمام زبانوں میں ترجمے تیار کر کے ان کو ساری قوموں میں پھیلا دینا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues