ایک با اصول انسان
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴۶
ایک با اصول انسان
حافظ قاری سید شبیر احمد صاحب عمری (پیدائش: 1940) جامعہ دار السلام، عمر آباد، تامل ناڈو میں شعبہ تحفیظ القرآن کے مدیر تھے۔ 25 مارچ 2018 کو 78 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مولاناسید اقبال احمد عمری ان کے بارے میں اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: ”وہ تقریباً 42 سال تک جامعہ کے شعبہ تحفیظ القرآن کے ذمے دار رہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ اتنی طویل مدت تک ایک ہی ادارہ سے وابستہ رہنے کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے ادارے کے آداب و اصول کا ہمیشہ پاس ولحاظ رکھا۔ یعنی جب وہ اپنے ماتحتوں سے کام لیا کرتے تھے تو جامعہ کے اصول کے مطابق اپنی صوابدید کے مطابق کام لیتے، اور جہاں ادارے کے ذمے داران مشورہ طلب کرتے تو اپنی رائے کا اظہار بھی کیا کرتے۔ اس کے بعد اگر اجتماعیت کی طرف سے ان کی رائے کے خلاف کوئی فیصلہ ہو جاتا تو فقیہہ خیمہ کہ خاموشی کے ساتھ سر تسلیم خم کر لیتے ۔ مجلس سے باہر آنے کے بعد نہ ہی گلہ کرتے، اور نہ ہی شکوہ کرتے، یعنی منفی مہم (negative campaign) نہیں چلاتے۔ الغرض اجتماعی فیصلے کے بعد مکمل طور پر اس کی پابندی کرتے، اپنی مرضی نہیں چلاتے۔ “ ایسے ہی افراد ہیں جن کو با اصول انسان کہا جاتا ہے۔ با اصول انسان کی تعریف ایک لفظ میں یہ ہے ۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی۔ وہ جب تک کسی ادارے سے منسلک ہو با اصول انداز میں اپنی ذمے داری ادا کرے۔ اگر اس کو کوئی اختلاف پیش آئے تو مثبت انداز میں ذمے داروں سے اس کا ذکر کر دے، اور اس کے بعد اپنے کام میں لگا رہے۔ دوسروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا، با اصول انسان کا طریقہ نہیں۔ با اصول آدمی کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ دوسرے آدمی کا اعتراف کرے، اور کسی معاملے میں اگر اس کی تعریف کی جائے تو وہ اس کا کریڈٹ دوسرے کو دے دے۔ وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے، اور نہ دوسرے کے اعتراف میں کوئی کمی کرے ۔ ایسا آدمی موت سے پہلے ایک با اصول انسان ہوتا ہے، اور موت کے بعد لوگوں کے لیے ایک یادگار نمونہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues