Al-Risala · June 2018 · page 48

ایک با اصول انسان

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸

12 ستمبر 2017 کو گورکی سدن (کولکاتا) میں رشین سینٹر آف سائنس اینڈ کلچر نے انڈین پلورلزم فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ’انٹرفیتھ راؤنڈ ٹیبل ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔ اس میں معزز اور بااثر مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس کا نفرنس کا عنوان تھا: بلڈنگ برج فار پیس اینڈ ہارمنی ان ملٹی کلچرل ورلڈ۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے، اور انھوں نے سماجی ہم آہنگی، تعلیم، صحت، ماحولیات اور غربت جیسے موضوعات پر اپنے خیال کا اظہار کیا، اور ان میدانوں میں باہمی تعاون سے کام کرنے کے مواقع اور لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی۔ اس پروگرام میں سی پی ایس (کولکاتا) کی جانب سے مسٹر جاوید عالم، بشیر احمد اور مصطفی علی صاحبان نے شرکت کی، اور حاضرین کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔ 6 اکتوبر 2017 کو ٹائمس آف انڈیا گروپ کے اسپر پچول اخباری اسپیکنگ ٹری کی ایڈیٹر مذرنائی اپنی دو ساتھیوں کے ساتھ صدر اسلامی مرکز کے آفس میں تشریف لائیں۔ یہاں انھوں نے صدر اسلامی مرکز اور تخت سری دمدمہ صاحب، ،بھٹنڈا،کے کے جتھدار جناب ہر پریت سنگھ جی کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اس مناسبت سے لیا گیا تھا کہ جتھدار جی نے پنجابی میں قرآن کا ترجمہ کیا ہے، تو آپ دونوں یہ بتائیں کہ اسلام اور سکھ ازم میں انسانیت اور امن کے لیے کیا پیغام ہے۔

امریکہ میں ایک آرگنائزیشن ہے، جس کا نام ہے:

Women's Islamic Initiative in Spirituality & Equality [WISE]

اس کی سربراہ ڈاکٹر ڈیزی خان ہیں۔ انھوں نے ایکسٹریمزم کے تعلق سے ایک کتاب شائع کی ہے، یہ مختلف لوگوں کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کا بھی ایک مضمون ہے۔ 26 اکتوبر 2017 کو واشنگٹن ڈی سی کے کارنیگی سائنس سینٹر میں اس کتاب کی رسم اجرا ء کے موقع پر WISE UP SUMMIT کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں خواجہ کلیم الدین صاحب (سی پی ایس، امریکہ) نے شرکت کی۔ وہاں انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی دو انگریزی کتابوں، دی ایج آف پیس اور قرآنک وزڈم کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ کانفرنس کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کو پروگرام کے منتظمین کی جانب سے درج ذیل ای میل موصول ہوا :

Dear Mr. Kaleemuddin, On behalf of Daisy and the WISE team, I want to thank you once again for taking the time out of your busy schedule to attend and participate in last week’s WISE Up Summit, and for everything you’ve contributed to the WISE Up Report and Campaign! You have truly been an invaluable partner throughout this whole process, and the WISE Up Report would not be what it is without you and Maulana. In particular, I wanted to let you know that we heard from a number of attendees that they really enjoyed your remarks during your panel discussion on “Islamic Theology vs. Extremist

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page