Al-Risala · July 2018 · page 25

منصوبہ تخلیق

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵

منصوبہ تخلیق

خدا کے منصوبہ تخلیق (creation plan) کا اصل ماخذ قرآن ہے۔ قرآن گویا اس منصوبہ تخلیق کا مستند متن (authentic text) ہے۔ سائنس تخلیق کے مطالعے کا علم ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس قرآنی متن کی کمنٹری (commentary) ہے۔ یہ کمنٹری وہی چیز ہے، جس کو حدیث رسول میں تائید دین بذریعہ غیر اہل دین کا نام دیا گیا ہے۔ ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)

فلکیاتی سائنس (astronomy) کی تحقیق کے مطابق کائنات کا آغاز تقریباً 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) سے ہوا۔ خلا (space) میں اچانک ایک کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال کے اندر بہت تیز دھما کا ہوا۔ سائنس داں اس کو بگ بینگ کا نام دیتے ہیں۔ اس کاسمک بال کے اندر وہ تمام پارٹیکل موجود تھے، جن سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ اس دھماکے کے بعد کاسمک بال کے تمام پارٹیکل روشنی کی اسپیڈ سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ خلا میں بکھر گئے۔ یہ پارٹیکل اگر اسی طرح سفر کرتے رہتے اور خلا کی وسعتوں میں بکھر جاتے تو کائنات وجود میں نہ آتی۔ مگر ایک سیکنڈ کے اندر پارٹیکل کی رفتار کم ہوگئی۔ اس طرح پارٹیکل جمع ہونا شروع ہوئے، اور پھر تمام ستارے اور سیارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔ سائنسی معلومات کے مطابق، پارٹیکل کے اجتماع سے بننے والی اس دنیا کو چھ دوروں (periods) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: है: (1) بگ بینگ (Big Bang) (2) سولر بینگ (Solar Bang)

(3) واٹر بینگ (Water Bang) (4) پلانٹ بینگ (Plant Bang)

(5) اینمل بینگ (Animal Bang) (6) ہیومن بینگ (Human Bang)

تخلیق کائنات کے آخری مرحلہ میں زمین پر وہ حالات پیدا ہوئے جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ ایک سائنسداں نے درست طور پر کہا ہے کہ پوری

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page