آفاقی طرزِ فکر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲
آفاقی طرزِ فکر
قرآن کی آئیڈیالوجی آفاقی آئیڈیالوجی ہے۔ یہ نقطۂ نظرمختلف انداز سے سارے قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا، اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے، پھر اس کو موت آ جائے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں مقرر ہو چکا (4:100)۔ قرآن کی یہ آیت زیادہ معنی خیز انداز میں میری سمجھ میں اس وقت آئی، جب کہ میں نے 1971 میں احمد آباد کا سفر کیا۔ یہاں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ انجینئر تھے۔ حال میں انھوں نے ایک فیکٹری بنائی تھی۔ وہ مجھ کو اپنی فیکٹری میں لے گئے۔ ان کی فیکٹری میں ابھی تک کوئی پروفیشنل مینیجر نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے پروفیشنل مینیجر کے نہ ہونے کا ذکر کیا، اور کہا: اپنی تو لیمیٹیشننس (limitations) آجاتی ہیں، مینجمنٹ سائیڈ پر۔
فیکٹری کے مالک کا یہ جملہ سن کر میرا مائنڈ ٹریگر (trigger) ہو گیا۔ میں نے ایک نئے لائن پر سوچنا شروع کر دیا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے رہنماؤں نے پوری بیسویں صدی اسی سوچ میں گزار دی ۔ ایک لفظی فرق کے ساتھ ان کی مشترک سوچ یہ تھی : اپنی تو لیمیٹیشننس آجاتی ہیں، پولیٹیکل سائیڈ پر۔ پولٹکس کوئی آفاقی نقطہ نظر نہیں ہے۔ پولٹکس کی محدود سرحدیں ہوتی ہیں۔ اس بنا پر ہمارے تمام رہنما گویا زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اپنی تو لیمیٹیشننس آجاتی ہیں، پولیٹیکل سائیڈ پر۔ اس فکری محدودیت کی بنا پر ہمارے رہنما امت کو آفاقی نقطہ نظر نہ دے سکے۔ ہر رہنما کی سوچ کسی نہ کسی پولیٹکل سرحد پر رک گئی۔ ہر رہنما فکری محدودیت کا شکار ہوا، اور امت کو بھی فکری محدودیت میں مبتلا کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیٹکل سرگرمی اور دعوتی عمل دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ سیاسی نقطۂ نظر محدود نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دعوت کا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ آفاقی نقطۂ نظر کی کوئی جغرافی سرحد نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آج امت مسلمہ پولیٹکل سرگرمیوں سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues