Al-Risala · August 2018 · page 4

حج کی تاریخ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۴

حج کی تاریخ

حج ایک عالمی اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دنوں کے اندر 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک ادا کیے جاتے ہیں۔ حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔ اللہ کا یہ منصوبہ تھا کہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر ان پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : رَبَّنَا إِنِّی أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37)۔ ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کر کے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہو چکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہو جاتا تھا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔ اس صحرائی ماحول میں لمبی مدت تک توالد و تناسل کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page