حج کی تاریخ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۶
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9-61)۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتناہی ناگوار ہو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساس تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے۔ اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جو خطبہ دیا، اِس میں یہ الفاظ تھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر 4547)۔ یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔
☆☆☆☆☆
’’لبیک‘‘، یعنی حاضر ہوں، کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں مکہ میں رہنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ وطن چھوڑ کر آنے کا کلمہ نہیں، بلکہ روش چھوڑ کر آنے کا کلمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تیری فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں کہ تو جو حکم دے، اس پر میں دل و جان سے قائم ہو جاؤں۔ ’’لبیک‘‘ کا اقرار آدمی حج کے مقام پر کرتا ہے، مگر اس کی عملی تصدیق وہاں سے لوٹ کر اس کو اپنے وطن میں کرنی پڑتی ہے، جہاں اس کو روز و شب میں اپنی زندگی گزارنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues