حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نمازی وہی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵
طرح زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ جُرہم قبیلہ کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والے کداء کے راستہ سے آ رہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ میں اترے۔ انھوں نے وہاں ایک پرندہ کو دیکھا جو گھوم رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ پرندہ تو پانی پر گھومتا ہے۔ ہم اس وادی میں رہے ہیں اور یہاں پانی نہ تھا۔ انہوں نے ایک یا دو آدمی کو خبر لینے کے لیے وہاں بھیجا۔ انہوں نے پانی دیکھا۔ وہ واپس لوٹ کر گئے اور لوگوں کو پانی کی خبر دی۔ وہ لوگ بھی آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ پانی کے پاس تھیں۔ انہوں نے ہاجرہ سے کہا کہ کیا تم ہم کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتی ہو۔ ہاجرہ نے کہا کہ ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ خود چاہتی تھیں کہ یہاں انسان آباد ہوں۔ اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے ۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہو گئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ اُن سے محبت کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ایک لڑکی سے اُن کا نکاح کر دیا۔ ہاجرہ کا انتقال ہو گیا۔ جب اسماعیل کا نکاح ہو چکا تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ انہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے اُن کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے اُس سے اُن کے گزر بسر اور حالت کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہیں۔ ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں۔ اُس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ اُنھوں نے کچھ محسوس کر لیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس اس صورت کا آیا تھا۔ انہوں نے آپ کے بارہ میں پوچھا، میں نے اُن کو بتایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزر کیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues