To give ourselves to you
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱
ہے ۔ نومبر 1962 کا واقعہ ہے ۔ ہندوستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی ۔ اُس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے ، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نوجوانوں نے مشترکہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملے کا مقابلہ کریں گے ، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزار پیسے جمع ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے ہم 25 ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں :
To give ourselves to you
مذکورہ نوجوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25 ہزار پیسوں کی شکل میں کیا۔ 25 ہزار پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے ۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت (token) تھے۔ یہی معاملہ جانور کی قربانی کا ہے۔ قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طور پر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگا دے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے : اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2795)۔ یعنی اے خدا یہ تو نے ہی دیا تھا ، اب میں اس کو تیرے سپر د کرتا ہوں ۔ ☆☆☆☆☆ حج کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن ہو جائے ۔ اس کو خدا کی یاد آنے لگے۔ اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جائے ۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues