رزق رب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱
رزق رب
مریم بنت عمران (وفات 100 یا 120ء) ایک ربانی خاتون تھیں، وہ ایک یہودی خاندان میں فلسطین میں 20 ق م میں پیدا ہوئیں۔ ان کے تذکرے کے ضمن میں قرآن میں بتایا گیا ہے فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتاً حَسَناً وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقاً قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَاب (337)۔ پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرے میں آتا تو وہ وہاں کچھ رزق پاتا۔ اس نے پوچھا: اے مریم، یہ چیز تمھیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں رزق کا لفظ مادی رزق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاڑے کے موسم میں گرمی کا رزق اور گرمی کے موسم میں جاڑے کا رزق۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کا رزق، اللہ کی دريافت کا رزق۔ حضرت زکریا کا سوال تعجب کے طور پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ شکر کے طور پر ہوتا تھا۔
اس رزق سے مراد وہ رزق ہے، جو اللہ کی یاد سے انسان کو ملتا ہے، جو آخرت کی یاد سے انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ جو اس یاد سے انسان کو ملتا ہے، جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً (3:190-91)۔
عارفانہ صحبت اس صحبت کا نام ہے، جس میں صرف اللہ کی اور آخرت کی باتیں ہوں، جس میں صرف جنت اور جہنم کی باتیں ہوں۔ جس صحبت سے اللہ رب العالمین کی یاد دلوں میں آئے، جو انسان کے دل و دماغ کو اللہ رب العالمین کی باتوں سے بھر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues