نبوت محمدی کا ظہور
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹
کے ذریعے وہ ان قوانین فطرت کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے لیے استعمال کے قابل بنائے۔ ان قوانین کو دریافت کر کے ایک نئی تہذیب (civilization) کو وجود میں لانے کے لیے لمبی مدت درکار تھی۔ اس عمل پر تقریباً ہزار سال گزر گئے۔ یہ عمل مختلف مراحل کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ حضرت نوح نے قدیم زمانے میں جب ایک بڑی کشتی بنائی تو اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (23:27)۔ یعنی ہم نے اس کو وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہی معاملہ جدید تہذیب کی تشکیل کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت نوح نے ملائکہ کی مدد سے کشتی بنائی تھی۔ اسی طرح دورِ جدید میں انسانوں نے اللہ کی خصوصی رہنمائی (divine inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا: اصنع الحضارة باعيننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میں اور ہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔ اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کر دیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل دین میں سے نہ ہوں گے گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
نبوت محمدی کا ظہور
پیغمبر اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں ہوا۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق، یہ ایک فرد (خاتم النبیین) کے ظہور کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ایک نئے تاریخی دور کو پیدا کرنے کا معاملہ تھا۔ یہ انقلابی دور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں مکمل ہوا۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues