عورت کی تخلیق
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲
عورت کی تخلیق
عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْاَةِ كَالْضِلَعِ، اِنْ اَرَدْتَّ اِقَامَتَهَا كَسَرْتَ، وَإِنْ تَسْتَمْتِعْ بِهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ، فَاسْتَمْتِعْ بِهَا عَلَى مَا كَانَ مِنْهَا مِن عوج ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4180 )۔ یعنی عورت کی مثال پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم چاہو اس کو سیدھا کرنا تو تم اس کو توڑ دو گے ۔ اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑ ھ ہے، پس تم اس کی ٹیڑھ کے باوجود اس سے فائدہ اٹھاؤ (تو تم اس سے فائدہ پا و گے )۔
اس حدیث میں عوج (ٹیڑھ) سے مراد یہ نہیں ہے کہ عورت کے اندر کوئی تخلیقی کمی ہے۔ یہ در اصل تمثیل کی زبان ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ مخصوص مزاج ہے، جو عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی جذباتی مزاج کو پسلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
جذباتی مزاج کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو عقلی طور پر سوچنے سے پہلے بھڑک اٹھنا۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو تو ٹھنڈے طریقے سے سوچے بغیر رائے قائم کر لینا۔ کسی بات پر اتنا شدید ہو جانا کہ سمجھنے سمجھانے کا دروازہ بند ہو جائے۔ کسی معاملے کو نتیجے کے اعتبار سے نہ دیکھنا، بلکہ صرف جذباتی پہلو سے سوچنا۔ اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھ لینا ۔ اس قسم کی تمام باتیں جذباتیت (emotionalism) سے تعلق رکھتی ہیں۔
جو آدمی اس طرح کی جذباتیت کا شکار ہو جائے ، اس کو صرف اپنے موافق بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی بات اس کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ جو بات اپنے مزاج کے خلاف نظر آئے ، اس پر وہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی کو نرمی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کو سختی سے سمجھانا، ممکن نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues