نیت پر حملہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۴
نیت پر حملہ
تنقید (criticism) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے کسی آدمی کے قول پر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں علمی تجزیہ (analysis) کرنا۔ ایسا تجزیہ جس میں آدمی کی نیت زیر بحث نہ آئی ہو، بلکہ صرف اس کے نقطۂ نظر کا موضوعی (objective) انداز میں جائزہ لیا گیا ہو۔ یہ طریقہ ایک جائز طریقہ ہے۔ قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ ایسا نہیں ہے، جو اس طریقے کو دین اسلام کے خلاف بتاتا ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی آدمی کی طرف ایک ایسی بات کو منسوب کرنا، جس کے بارے میں کوئی ثابت شدہ حوالہ ایسا موجود نہ ہو کہ اس نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے، وہ قصداً (intentionally) کہا یا لکھا ہے، بلکہ وہ ناقد کا اپنا مفروضہ ہو۔ ایسی تنقید اسلام میں بلاشبہ جائز نہیں، اور آدمی کو اس دوسرے قسم کی تنقید سے کامل پر ہیز کرنا چاہیے۔
مذکورہ تقسیم میں دوسری قسم کی تنقید بے حد خطر ناک ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی تنقید کا ارتکاب کرے، تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے وہ خود اللہ کی پکڑ میں نہ آ جائے۔ کیوں کہ حدیث سے غیر مشتبہ طور پر اس کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت ہے : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ، وَلَا يَرْمِيِهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6045 ) ۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر کوئی کسی شخص پر کفر یا فسق کا الزام لگائے، تو وہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔
کفر یا فسق اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا، اس کی نیت پر حملہ بن جاتا ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا کسی حال میں جائز نہیں۔ یہ تمام تر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے، وہ انسان کے بیان کا معاملہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues