بے باکی یا دانش مندی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
بے باکی یا دانش مندی
ایک مسلم رہنما کی تعریف میں ایک مضمون دیکھا۔ اس کا ایک جملہ یہ تھا—انہوں نے ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے مخصوص مسائل کے بارے میں گہرائی سے غور وفکر کیا، اور ہمیشہ پوری بے باکی سے اس پر اظہارِ خیال کیا۔
مشہورشخصیتوں کے بارے میں اکثر اس طرح کا جملہ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسائل پر بے باکی کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا، کوئی کام نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس طرح کے بے باکانہ اظہارِ خیال کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ صورت حال کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ پھر مواقع کی دریافت کی جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ مسائل کے باوجود کون سے مواقع موجود ہیں، جن کو اویل (avail) کر کے ترقی کی طرف کامیاب سفر جاری کیا جا سکتا ہے ۔ ’’بے باکانہ اظہارِ خیال‘‘ دراصل ری ایکشن (reaction) کا دوسرا نام ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ مسائل میں کمی کرنے والا۔
اس قسم کے بے باکانہ اظہارِ خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر منفی سوچ بڑھتے بڑھتے تشدد کی سوچ اختیار کر لیتی ہے۔ لوگ ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہتے کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں۔ مبنی بر مسائل سوچ (problem-based thinking) کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہن منفی ذہن بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں پر سوچتا ہے، لیکن خود اپنی کوتاہیوں کا جائزہ نہیں لیتا۔ اس کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہر معاملے میں غلطی دوسروں کی ہے، میری کوئی غلطی نہیں۔ ہر مسئلے کے ذمے دار دوسرے لوگ ہیں، میں ذمے دار نہیں۔ اس قسم کی ذہن سازی الٹی ذہن سازی ہے۔ ایسی ذہن سازی قوم کی خدمت نہیں ہے، بلکہ وہ قوم کو غلط رہنمائی کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues