Al-Risala · September 2018 · page 44

سیکولرزم کیا ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

ایک سوال جواب اس کا سوال کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤْمَّرُ عَلَيْكُمْ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ یعنی ابو بکرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے کہا: جیسے تم ہو گے، ویسے ہی حا کم تمھارے اوپر ہوں گے۔

اس حدیث رسول پر غور کیجیے۔ اس حدیث رسول سے ایک اہم سیاسی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث رسول میں کما تکونون کا مطلب یہ ہے کہ جیسا معاشرہ ہوگا، اور یولی او یو مر کا مطلب ہے حکمراں۔ مزید غور کیجیے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسا تمھار ا معاشرہ ہوگا، ویسے ہی تمھارے حکمراں ہوں گے۔

اب اس حدیث کا مطالعہ ایک آیت کی روشنی میں کیجیے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَأَمْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (42:38)۔ یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ آیت اور حدیث میں فطرت کا ایک قانون بیان ہوا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت ایک معاشرتی پروڈکٹ ہے۔ یعنی حکومت اصلاً معاشرے سے برآمد ہوتی ہے، نہ کہ بیلٹ باکس سے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جس قسم کی حکومت چاہتے ہوں، ویسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یعنی پر امن انداز میں افراد پر عمل

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page