Al-Risala · October 2018 · page 6

معرفت کا کلمہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۶

معرفت کا کلمہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے : عبد اللہ بن عمر و ابن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے لائے گا، پھر اس کے (اعمال کا) ننانوے رجسٹر (ایک روایت میں ہے: جس میں اس کی خطائیں ہوں گی)، اس کے سامنے کھولا جائے گا، ہر رجسٹر انتہائے نظر کے مثل ہوگا (فَیُنْشَرُ عَلَیْہِ تِسْعَةٌ وَتِسْعِیْنَ سِجِلّاً کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ)، پھر اللہ پوچھے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کیا ہے، وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہے گا: کیا تمھارے پاس اس کا کوئی عذر ہے (ایک روایت میں ہے: یا کوئی نیکی ہے، وہ آدمی متحیر ہو جائے گا، اور) کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہے گا: (ایک روایت میں ہے: ہم اپنے پاس تمھاری نیکیاں نہیں دیکھتے ہیں) لیکن ہمارے پاس تمھاری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا (وَإِنَّہٗ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ)، پھر ایک بطاقہ (کارڈ) نکالا جائے گا (ایک روایت میں ہے: انگلی کے بقدر)، جس میں ہوگا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اللہ کہے گا: اس کو وزن کرو۔ بندہ کہے گا: اے رب، اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے، ان رجسٹروں کے مقابلے میں (یَا رَبِّ مَا ہٰذِہِ الْبِطَاقَةُ، مَعَ ہٰذِہِ السِّجِلَّاتِ)؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، اور پھر تمام رجسٹروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا، اور اس کارڈ کو دوسرے پلڑے میں، تمام رجسٹر ہلکے ہو جائیں گے، اور کارڈ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں (فَلَا یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللّٰہِ شَیْءٌ)۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2639؛ مسند احمد، حدیث نمبر 6994؛ المجالسة وجواہر العلم، حدیث نمبر 2295؛ الشریعۃ للآجری، حدیث نمبر 902؛ المعجم الکبیر للطبرانی، (13/19/30)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page