امت کی حالتِ زار
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵
امت کی حالتِ زار
آج کل تمام دنیا میں مسلمانوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کی حالتِ زار کو بیان کرتے ہیں، اور پھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ فلاں دشمن اسلام طاقت اس کی ذمہ دار ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے تقریباً سب کے سب یہی بولی بولتے ہیں اور یہی بات لکھتے ہیں۔ حالتِ زار کا یہ تصور اگر درست ہے تو قرآن وسنت کے مطابق، مسلم مقرراور محرر کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ یہ دریافت کریں کہ امت مسلمہ سے خدا کی نصرت کیوں اٹھ گئی۔ اس معاملے میں کسی دشمن کا انکشاف کرنا، یقینی طور پر خلافِ اسلام فعل ہے۔
اس نقطہ نظر کی تائید میں بہت سے واضح نصوص موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تم پر لازم ہے کہ تم اپنی فکر کرو۔ کوئی گمراہ ہواتو اس سے تمهارا کچھ نقصان نہیں اگر تم ہدایت پر ہو۔ اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ جب بھی ان کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کریں، کسی دوسرے پر اپنے مسئلے کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ رب العالمین کی قائم کردہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سبب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اس کے باہر۔ جولوگ ایسا کریں کہ وہ اپنے باہر سبب ڈھونڈ کر اس کو برا بتائیں یا اس کے خلاف لڑائی چھیڑیں، تو ایسا طریقہ ان کو کوئی فائدہ دینے والا نہیں۔ کیوں کہ اصل سبب تو اندر ہے، اور وہ باہر کے کسی مفروضہ دشمن پر ساری ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ یہ طریقہ خدا کی دنیا میں کبھی کارآمد ہونے والا نہیں۔
تشخیص (diagnosis) اگر صحیح ہو تو اس کی بنیاد پر کی ہوئی تجویز (prescription) مفید ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر تشخیص درست نہ ہو تو اس کی بنیاد پر جو تجویز کی جائے گی، وہ بھی بے اثر ثابت ہوگی۔ یہ ایک اٹل اصول ہے، اور اس اصول میں کوئی استثنا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues