Al-Risala · October 2018 · page 21

تقویٰ بقدراستطاعت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱

میری ہے، اس کا الزام دوسرے کو دینا شروع کر دوں۔

یہ تقویٰ یا متقیانہ روش ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کسی آدمی کے اندر فوری طور پر یک بٹن دبا کر پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کو اپنے آپ کو تربیت دے کر اس قسم کی متقیانہ روش کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آیت کا یہ لفظ کہ متقیانہ روش پر قائم رہو، کا مطلب یہ ہے کہ متقیانہ روش کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اپنے ذہن کو منفی ذہن بننے سے بچاؤ، اپنے ذہن میں شکایتی نفسیات پیدا نہ ہونے دو۔ عقلی غور وفکر کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کرو کہ جو معاملہ پیش آتا ہے، وہ ایک طرفہ سبب سے نہیں پیش آتا۔ اس کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے تقویٰ یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب کی غلطی سے خود کو بچائے۔ گویا تقویٰ محاسبۂ خویش کا ایک مثبت نتیجہ ہے۔

تقویٰ اس طرح اچانک نہیں پیدا ہوتا کہ اب تک آپ کا ذہن ایک سوچ (switch) کے تحت کام کر رہا تھا، اب آپ اپنی انگلی کے ذریعے دوسرے سوچ کو دبادیں، اور آپ کے اندر متقیانہ روش پیدا ہوجائے۔ تقویٰ ایک تھنکنگ پراسس (thinking process) کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی نے اپنے اندر یہ پر اسس جاری نہ کیا ہو، اس کے اندر تقویٰ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ کا مطلب یہ ہے ۔ اخلاص کے ساتھ تم جتنا زیادہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کروگے، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے گا، اور مزید کی توفیق دے گا۔ تقویٰ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ تقویٰ ایک ارتقا پذیر صفت ہے۔ تقویٰ ایک درخت کی مانند ہے۔ تقویٰ کا درخت آدمی خود اپنے اندر لگاتا ہے۔ اس کے بعد اخلاص کے بقدر مزید اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے، اور پھر اللہ کی توفیق سے یہ درخت بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا معاملہ وہ ہوجاتا ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ - تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (25-14:24) ۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس درجے کی متقیانہ شخصیت، اسی درجے کا متقیانہ کردار۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page