Al-Risala · October 2018 · page 24

ایمان کے بعد ایمان

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴

ایمان کے بعد ایمان

قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یٰاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوآ آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (136: یعنی اے ایمان والو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بہک کر دور جا پڑا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان ایمان کو لانے کے بعد دوبارہ ایمان لانا ہے۔ ایک حدیث رسول میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَدِّدُوآ إِيمَانَكُمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا ؟ قَالَ: أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (مسند احمد، حدیث نمبر (8710) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو، پوچھا گیا: اے خدا کے رسول ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں۔ آپ نے کہا: لا الہ الا اللہ کو زیادہ سے زیادہ ادا کرو۔

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اجتماعی طور پر بیٹھ کر اپنے ایمان کا دوبارہ چرچا کرتے تھے۔ اس معاملے پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چند قانونی الفاظ ہیں، ان کو اگر آدمی نے دہرا دیا تو اس کو ایمان حاصل ہو گیا۔ بلکہ ایمان ایک ایسی حقیقت کا اقرار ہے، جس کی گہرائیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2906)۔ یعنی اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ (484)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان ابتدائی طور پر اقرار کا نام ہے۔ لیکن اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page