باہمی انحصار کا دور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶
باہمی انحصار کا دور
موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے تقاضے وجود میں آئے ہیں، جو پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ جو شخص موجودہ زمانے میں رہنمائی کا کام کرنا چاہے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے کہ خالص موضوعی ذہن (objective mind) کے ساتھ مطالعہ کر کے نئے زمانے کو سمجھے، اس کے بعد رہنمائی کا کام کرے۔ اس قسم کی تیاری کے بغیر جو لوگ رہنمائی کے منصب پر کھڑے ہو جائیں، وہ بلاشبہ لوگوں کو بھٹکانے کا کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ حقیقت سے واقفیت کے بغیر بولنا شروع کر دیں۔ ان نئے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو صنعتی انقلاب آیا ہے، اس نے اجتماعی زندگی میں ایک نیا دور پیدا کر دیا ہے۔ اس دور کو ایک لفظ میں باہمی انحصار کا دور (ageof interdependence) کہا جا سکتا ہے۔ لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ہے، تاجر کو کسٹمر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ہے، میڈیا کو ویورس (viewers) کی ضرورت ہے، وغیرہ۔ اس نئے تقاضے نے ایک نیا کلچر پیدا کیا ہے۔ اس نئے کلچر کو میوچول انٹرسٹ (mutual interest) کا کلچر کہہ سکتے ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کی ضرورت ہے، ہر ایک کا کام دوسرے پر اٹکا ہوا ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نیا جبر (compulsion) پیدا کیا ہے۔ ہر ایک مجبور ہے کہ وہ پر امن طریقے سے رہے، ہر ایک مجبور ہے کہ وہ دوسرے کا احترام کرے۔ تاکہ ہر ایک کو دوسرے سے اس کا فائدہ ملتا رہے۔ مگر اس دور میں صرف مسلمان ہیں، جن کو ان کے نام نہاد لیڈروں نے اس حقیقت سے بے خبر بنا رکھا ہے۔ مثلاً مسلمانوں نے کشمیر میں ہنگامہ کر کے، وہاں سیب کا بزنس ختم کر دیا، مصر میں مسلمانوں نے ہنگامہ کر کے وہاں سے سیاحت کا بزنس ختم کر دیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں تشدد کی سیاست ایک کاؤنٹر پروڈکٹیو سیاست ہے، مگر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لیے وہ خلاف زمانہ حرکت (anachronistic culture) میں مبتلا ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues