Al-Risala · October 2018 · page 38

ظلم یا چیلنج

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸

ظلم یا چیلنج

کچھ لوگ جوش کے ساتھ کہتے ہیں کہ ” 120، 130 کروڑ کی آبادی میں صرف 1 کروڑ ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں، ممکن نہیں کہ ظلم باقی رہے“۔ یہ بات صرف ایک خطابت (rhetoric) ہے، اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں جو شخصیتیں یا جماعتیں معروف ہیں، وہ اپنے جو کارنامے بیان کرتے ہیں، ان کا مجموعہ 1 کروڑ سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک کروڑ آدمی آج بھی مفروضہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ کہاں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم کا مفروضہ ہی غلط ہے۔ آج کی دنیا میں نہ کوئی ظالم ہے، اور نہ کوئی مظلوم ہے۔ ہر آدمی کو عمل کرنے کا پورا موقع ملا ہوا ہے۔ جو لوگ اس مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں، وہ اپنے کو مظلوم بتا کر یہ کہتے ہیں کہ ظالم لوگوں نے ہمیں پیچھے کر دیا ہے۔ ظالم اور مظلوم کا مفروضہ نا اہل رہنماؤں کا پیدا کردہ ہے۔ جو لوگ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ آسان یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ ظلم ومظلومیت کا افسانہ گھڑیں، اور اس طرح ایک طبقہ کے درمیان کچھ شہرت (popularity) حاصل کریں۔

جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مواقع کو دریافت کریں، اور مواقع کو بتا کر لوگوں کی مثبت رہنمائی کریں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، مواقع ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ رہنما کا کام مواقع کی دریافت ہے۔ مسائل کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کوئی کام نہیں۔ یہ رہنمائی کے نام پر لوگوں کو بھٹکانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں یہ کہا گیا ہے ۔ کہنے کے قابل کوئی بات ہو تو کہو، ورنہ چپ رہو: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس ہوگا، اس کا حال یہ ہوگا کہ کہنے کے قابل کوئی بات ہوگی تو وہ کہے گا، ورنہ وہ چپ رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page