Al-Risala · January 2018 · page 6

توحید کا مشن، بتوں سے اعراض

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۶

ہے کہ خدیجہ نے آپ سے کہا کہ چلیے میں آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے چلتی ہوں ۔ دیکھیے وہ کیا کہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل مکہ کے باشندے تھے۔ ان کی عمر نوے سال ہو چکی تھی۔ وہ مکہ کے ان لوگوں میں سے تھے، جن کو حنفاء کہا جاتا تھا۔ انھوں نے عبرانی زبان سیکھی تھی، اور تورات وانجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ چناں چہ وہ نصرانی ہو گئے تھے۔ ورقہ نے جب آپ کی بات سنی تو انھوں نے کہا: یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تم لے کر آئے ہو، اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین میں مذہبی منافرت (religious hatred) کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ آپ کے لایا ہوا دین ہر مذہب کے لوگوں کے لیے یکساں خیر خواہی پر مبنی تھا۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ صرف اخلاقی واقعہ نہیں، وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے مشن میں میوچول لرننگ (mutual learning) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس ملاقات سے آپ کی پریشانی ختم ہو گئی، ورقہ بن نوفل کی باتوں سے آپ کو اپنے مشن کے بارے میں ایک نیا یقین حاصل ہوا۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک ورقہ بن نوفل پہلے شخص تھے، جو آپ کے اوپر ایمان لے آئے۔

توحید کا مشن، بتوں سے اعراض

پیغمبر اسلام کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس معاملے میں مقدس کعبہ کی تطہیر اپنے آپ شامل تھی، جس کی عمارت میں اس زمانہ کے مشرک لوگوں نے تقریباً 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر یہ بے حد اہم بات ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا تو آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلایا۔

آپ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ بتوں کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو زائرین (visitors) جمع

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page