Al-Risala · November 2018 · page 10

سائنسی تحقیقات

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۰

سائنسی تحقیقات

الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: قرآن کی ایک آیت ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ابتدائے تخلیق کیسے ہوئی، اس پر غور و فکر کریں: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ (29:20)۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھر و، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا۔ اس پر علمی ڈیٹا تو دورِ جدید میں میسر ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے خطاب کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیقات کی بھی اہمیت ہے۔ ایسا سمجھنا کہاں تک درست ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، چنئی، تامل ناڈو)

اس معاملے میں آپ نے لفظ’’بھی‘‘ استعمال کیا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں سائنس پر مبنی جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ سب بلاشبہ اسلام کا حصہ ہیں۔ یہ تحقیقات جو تمام تر میتھمیٹکس پر مبنی ہوتی ہیں، وہ بلاشبہ قرآن کے اس حکم کی تعمیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ روایت آئی ہے کہ غیر اہلِ ایمان دین کی تائید کریں گے (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ مبنی بر میتھمیٹکس اہل سائنس کی تحقیقات اسی تائید دین کا حصہ ہیں۔ سائنس کی ایک تحقیقات وہ ہیں، جو ریاضیات (mathematics) پر مبنی ہیں، ان کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیقات بلاشبہ اسلامی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ ان تحقیقات کو قرآن فہمی کا ذریعہ بنانا، اسی طرح درست ہے، جس طرح دوسرے فنون کو قرآن فہمی کے لیے بجاطور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

میرے نزدیک ان سائنسی تحقیقات میں نظریہ ارتقا شامل نہیں۔ نظریہ ارتقا ایکزیکٹ سائنسز کا حصہ نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ میتھمیٹکس پر مبنی کوئی علم نہیں۔ اس کی بنیاد کچھ ایسی چیزوں پر مبنی ہے، جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے قیاس کا درجہ رکھتی ہیں۔ محققین نظریہ ارتقا کو میتھمیٹیکل سائنس کا درجہ نہیں دیتے، بلکہ اس کو قیاسی علم کا درجہ دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page