دعوت کا اصول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷
دعوت کا اصول
دعوت کے ابتدائی دور میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس میں رسول اللہ کو حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (74:5)۔ یعنی اور گندگی کو چھوڑ دو۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی ہے۔ یہاں رجز اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ ایسے فعل سے اعراض کرو، جو باعتبارِ نتیجہ رجز تک پہنچنے والا ہو۔ امام رازی نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: كُلُّ مَا يُؤَدِّي إِلَى الرُّجْزِ فَاهْجُرْهُ (تفسیر الرازی، 30/699)۔ یعنی ہر وہ چیز، جو رجز تک پہنچانے والی ہو، اس کو چھوڑ دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں رجز کا لفظ باعتبار نتیجہ (in terms of result) ہے۔ یعنی جو چیز بظاہر غلط نہ ہو، لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ غلط انجام تک پہنچانے والی ہو، اس کو چھوڑ دو۔ مثلاً جب پیغمبر اسلام نے توحید کا مشن مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت کعبہ میں تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ پیغمبر توحید کے لیے بظاہر ایک ناقابل قبول بات تھی۔ لیکن پیغمبر اسلام اگر ان بتوں کے خلاف کوئی سخت طریقہ اختیار کرتے تو یقیناً اس سے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھتے۔ وہ اس کے ری ایکشن میں تشدد کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس طرح مکہ میں امن کا ماحول ختم ہو جاتا، اور دعوت کے بجائے ٹکراؤ کا ماحول شروع ہو جاتا۔ اس کے نتیجے میں ایک رجز وجود میں آتا، یعنی مکہ میں ٹکراؤ کا ماحول قائم ہو جانا۔ اس کے بعد یہ ہوتا کہ بتوں کی زیارت کے نام سے جو مکہ میں پورے عرب سے آمد و رفت ہوا کرتی تھی، بند ہو جاتی۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو سارے عرب کے آڈینَس (audience) مکہ میں نہیں مل پاتے، اور عملاً پر امن دعوت کا خاتمہ ہو جاتا۔
کسی عمل کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ الٹا نتیجہ والا (counter-productive) ثابت نہ ہو۔ وہ مطلوب نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ غیر مطلوب نتیجہ تک۔ وہ پرابلم کو ختم کرے، نہ کہ پراِلم میں اور اضافہ کرے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر اقدام سے پہلے، اس کی بہت سوچی سمجھی منصوبہ بندی کی جائے۔ بغیر سوچے سمجھے اقدام کرنا، اسلام میں جائز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues