سلیقہ حیات
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲
سلیقہ حیات
مسلم رہنماؤں کی شاید سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے امت کو حرام و حلال کا مسئلہ تو بتایا، لیکن یہ بتانے میں ناکام ہو گئے کہ جینے کا سلیقہ کیا ہے۔ جس طریقہ کو سیکولرزم کہہ کر مسلمان اس سے نفرت کرتے ہیں، وہ کوئی حرام و حلال کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کو جینے کا پر امن سلیقہ بتایا جائے۔ زندگی میں یہی کافی نہیں ہے کہ آپ حرام و حلال کو جانیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ جینے کا سلیقہ جانیں۔
مثلاً ایک شخص آپ کے رسول کے خلاف کوئی ایسی بات کہے، جو آپ کو پسند نہ ہو تو آپ یہ مت کہیے کہ وہ شاتم ہے، بلکہ یہ کہیے کہ اس کی رائے میری رائے سے مختلف ہے۔ کوئی شخص آپ کی رائے سے الگ اپنی رائے بنائے تو آپ اس کے قتل کا فتویٰ مت دیجیے، بلکہ اس کو صرف اختلاف رائے کے درجے میں رکھیے، اور اس کو پر امن انداز میں سمجھانے کی کوشش کیجیے۔ یہ عجیب بات ہے کہ یہ غلطی ان لوگوں نے کی جو امت میں ٹرینڈ سیٹر (trendsetter) کی حیثیت رکھتے تھے۔ مثلاً ایک بڑے عالم نے ایک کتاب لکھی۔ اس کا ٹائٹل یہ مقرر کیا: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب نے امت کو یہ اصول دیا کہ جہاں تم دیکھو کہ کوئی شخص تمھارے رسول کے خلاف شتم کر رہا ہے تو اس کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جاؤ۔ یہ اصول بلا شبہ اسلام کے دعوتی تصور کے خلاف ہے۔
دعوت و تبلیغ کے اصول کا یہ تقاضا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو ایسا ملے جو آپ کے پیغمبر کے خلاف کلام کر رہا ہو تو آپ اس سے مل کر اس کے نقطہ نظر کو معلوم کریں۔ اس کو دلیل سے اپنی بات سمجھائیں۔ اس کی سوچ کو درست کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ اس کی گردن کو اس کے جسم سے جدا کر دیں۔ پر امن طریقہ (peaceful method) درست طریقہ حیات ہے۔ اس کے برعکس، زور و جبر اور نفرت کا طریقہ سلیقہ مندی کے خلاف ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues