Al-Risala · November 2018 · page 44

منصوبہ بند کام

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

منصوبہ بند کام

انجینئرس انڈ یا لیمیٹیڈ (Engineers India Limited) ایک پبلک سیکٹر کمپنی ہے۔ اس کا قیام 1965 میں عمل میں آیا۔ یہ ایک انٹرنیشنل ادارہ ہے، اس کا ہیڈ آفس دہلی میں ہے۔ یہ ادارہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات وغیرہ کے میدان میں انجینئر نگ اور کلینیکل سروس مہیا کرتا ہے۔ غالباً 1970ء کی بات ہے، میری ملاقات اس ادارے کے ایک سینئر افسر سے ہوئی ۔ وہ گرین پارک (نئی دہلی) میں رہتے تھے۔ بات چیت کے دوران میں نے کہا کہ ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز ہارڈ ورک (hard work) ہے۔ انھوں نے جواب دیا: نہیں، یہ پرانے زمانے کا تصور (concept) ہے۔ آج کے زمانے میں ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز پلاننگ ہے۔ اب ترقی کا راز منصوبہ بندی ہے، نہ کہ صرف ہارڈ ورک۔

یہ نہایت درست بات ہے۔ پہلے زندگی سادہ تھی ۔ کام کا دائرہ محدود ہوتا تھا۔ آدمی اپنے قریبی دائرے میں محنت کر کے کمائی کر سکتا تھا۔ مگر آج زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔ آج کی سوسائٹی ایک کامپلکس سوسائٹی ہے۔ آج انسان کو مسابقت میں جینا پڑتا ہے۔ آج بہت سے نئے تقاضے وجود میں آئے ہیں، جن کو پورا کیے بغیر کوئی شخص بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ مثلاً انڈیا کو لیجیے ۔ انڈیا کو 1947 میں آزادی ملی۔ اس کے بعد عام تصور کے مطابق، مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے جو رہ نما اٹھے، وہ سب کے سب ری ایکشن کی بولی بولنے لگے۔ ہر ایک یہ کہنے لگا کہ مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، مسلمان امتیاز (discrimination) کا شکار ہو رہے ہیں، مسلمان ایک مظلوم کمیونٹی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ آزادی کے بعد پچاس برس تک بہت کام کیا گیا۔ مگر سب کا سب بے فائدہ رہا۔ بظاہر ”ہارڈ ورک‘‘ کے باوجود مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ مل سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں نے بظاہر ہارڈ ورک تو بہت کیا، لیکن ان کے ہارڈ ورک

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page