Al-Risala · November 2018 · page 46

چپ کا راز

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۶

چپ کا راز

ایک بار ایک سفر کے دوران میں کسی ائیر پورٹ پر تھا۔ وہاں ایک جاپانی مسافر سے ملاقات ہوئی، وہ ایک نوجوان تھا، اور کسی یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران اس نے کہا کہ میرے ریسرچ کا موضوع خاموشی (silence) ہے۔ پھر اس نے کہا کہ کیا آپ اسلام سے خاموشی کے موضوع پر کوئی ریفرنس بتا سکتے ہیں۔ میں نے کہا، ہاں۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر میں پیغمبر اسلام کا ایک قول آپ کو سناتا ہوں، پھر میں نے یہ حدیث اس کو سنائی: مَنْ صَمَتَ نَجَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2501)_ یعنی جس نے خاموشی اختیار کی، وہ نجات پا گیا۔ جاپانی نوجوان اس بات کو سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے اس حدیث کو فورا اپنی ڈائری میں نوٹ کیا، اور کہا کہ اس حوالے کو میں اپنے تھیسس میں شامل کروں گا۔

چپ رہنا کوئی سادہ بات نہیں ۔ چپ رہنا دو آپشن میں سے ایک آپشن کو چھوڑنا، اور دوسرے آپشن کو اختیار کرنا ہے۔ یعنی بولنے کا آپشن نہ لینا، اور خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا۔ جب کوئی آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ دراصل بولنے کے بجائے سوچنے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی بات سن کر ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی عقل میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ ردعمل کے طریقے کو چھوڑ کر مثبت عمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جب آپ نہیں بولتے ہیں، تو آپ سوچتے ہیں، اور جب آپ سوچتے ہیں تو آپ اپنے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بولنا آسان ہے، مگر نہ بولنا ایک مشکل کام ہے ۔ بولنے کے لیے سوچنے کی ضرورت نہیں ۔ جو بھی آپ کے حافظے میں الفاظ ہیں، ان کو دہرانا شروع کر دیجیے، اور پھر نطق وجود میں آ جائے گا۔ لیکن جب آپ نہ بولیں ، تو آپ کا ذہن فورا سوچنا شروع کر دیتا ہے، وہ مختلف باتوں کا موازنہ کرتا ہے۔ وہ حال کے ساتھ مستقبل کو اپنی سوچ میں شامل کرتا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page