Al-Risala · December 2018 · page 4

کامیاب زندگی کا طریقہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴

کامیاب زندگی کا طریقہ

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ، یُسْمِعَانِ أَهْلُ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِّمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى (مسند احمد، حدیث نمبر 21721) ۔ یعنی جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دو فرشتے اس کے دونوں کناروں پر بھیجے جاتے ہیں۔ وہ دونوں اعلان کرتے ہیں، جس کو جن و انسان کے علاوہ تمام مخلوقات سنتی ہیں: اے لوگو، اپنے رب کی طرف آؤ، جو کم ہو، اور کافی ہو، وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو، اور غفلت میں ڈال دے۔

انسان کو زندگی گزارنے کے لیے کچھ مادی سامانِ حیات درکار ہوتا ہے۔ یہ سامانِ حیات زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن سامانِ حیات فراہم کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، بقدرِ ضرورت پر اکتفا کرنا، اور دوسرا ہے، ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرنا۔ جو آدمی سامانِ حیات کے معاملے میں بقدرِ ضرورت پر اکتفا کرے، وہ کامیاب انسان ہے، اور جو آدمی ہر خواہش کی تکمیل کو اپنا مقصدِ حیات بنالے، وہ کامیاب زندگی کی تعمیر سے محروم رہے گا۔ جو آدمی سامانِ حیات کو ضرورت کے درجے میں رکھے، اور اپنی ساری توجہ مقصدِ حیات کو جاننے پر لگائے، اس کی زندگی کامیاب ہوگی۔ کیوں کہ ضرورت پر اکتفا کرنے پر اس کو کافی موقع ملے گا کہ وہ زندگی کے اصل مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ فارغ کر سکے۔ مثلاً ایسے آدمی کے پاس کافی وقت ہوگا۔ وہ کتابوں کا مطالعہ کر کے زندگی کے مقصد کے بارے میں اپنے علم کو بڑھائے۔ اس کے برعکس، جو آدمی سامانِ حیات کو بذاتِ خود اہم سمجھ لے، وہ سامانِ حیات کی زیادہ سے زیادہ فراہمی میں اتنا وقت لگادے گا کہ اس کے پاس اصل مقصد کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہی باقی نہیں رہے گا۔ اس کے پاس سامانِ حیات کی افراط ہوگی، لیکن انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ کے معاملے میں وہ ذہنی بونا پن کا شکار ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page