Al-Risala · December 2018 · page 13

بیدار ذہنی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳

بیدار ذہنی

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ (61:4) ۔ یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس آیت میں بظاہر قتال کا ذکر ہے۔ لیکن وسیع تر معنی میں اس سے مراد ہر قسم کی دینی جدوجہد ہے۔ وسیع تر معنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی مشن کے لیے اس طرح متحد ہو کر کوشش کرنا کہ آپ کا اختلاف ہر گز اس متحدہ جد و جہد کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔

اجتماعی زندگی میں اختلاف کا پیش آنا، ایک فطری امر ہے۔ کوئی بھی اجتماعی معاملہ ہو، اس میں افراد کے درمیان اختلاف کی صورتیں ضرور پیش آتی ہیں۔ لیکن اہل ایمان ذہنی ارتقا کے اس درجے پر ہوتے ہیں کہ وہ ہر اختلاف کو پیچ کر لیتے ہیں۔ وہ اختلاف کو کسی بھی حال میں دین کی اجتماعی جد و جہد کے لیے رکاوٹ بننے نہیں دیتے۔ اس کی ایک مثال دو صحابی کا یہ واقعہ ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ سَعْدِ كَلَامٌ، قَالَ : قَالَ:فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ خَالِدًا عِنْدَ سَعْدٍ، قَالَ : فَقَالَ سَعْدُ : مَهْ، فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3810)۔ یعنی طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی۔ اس کے بعد ایک آدمی نے سعد کے پاس خالد کا بُرا ذکر کیا، تو سعد نے کہا: دور ہو جاؤ، ہمارے درمیان جو کچھ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔ اسی اجتماعی اسپرٹ کا نام اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہے۔ اس طرح کا کردار پیچ کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دو واقعے کو ایک دوسرے سے الگ رکھے، ذاتی اختلاف کا معاملہ الگ، اور مشن کے لیے اتحاد کا معاملہ الگ ۔ جو لوگ اس اسپرٹ کے حامل ہوں، ان کا اتحاد کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page