Al-Risala · December 2018 · page 19

سیکھنے کا عمل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

سیکھنے کا عمل

عام طور پر لوگوں کا مزاج ہے کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ اپنی غلطی کی صفائی پیش کرتے رہتے ہیں۔ وہ کوئی نہ کوئی پہلو نکال کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ غلطی میری نہیں تھی، بلکہ دوسروں کی تھی۔ وہ غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے ہمیشہ غلطی کی توجیہہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غلطی کے اعتراف کو وہ اپنی کمزوری سمجھتے ہیں، اور غلطی کا اعتراف نہ کرنے کو اپنی بڑائی۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے کو انھوں نے اپنی بڑائی کو برقرار رکھا۔ مگر یہ دانش مندی کی بات نہیں۔ دانش مندی یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کو جانے۔ وہ غلطی کرنے کے بعد فورا یہ کہہ دے کہ میں غلطی پر تھا (I was wrong)۔ غلطی کو نہ ماننا گویا غلطی کے اوپر قائم رہنا ہے، اور غلطی کو مان لینا یہ ہے کہ آدمی نے غلطی کرنے کے بعد فوراً اپنی اصلاح کرلی، اور اس طرح اپنے لیے شخصیت کے ارتقا (personality development) کے پراسس کو نان اسٹاپ (non stop) طور پر جاری رکھا۔

بڑی بات یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو بے خطا ثابت کریں۔ اگر آپ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں، تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ آپ جہاں پہلے تھے، وہیں اب بھی باقی رہیں گے۔ اس لیے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ آپ کے اندر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج ہو۔ آپ بے جھجک یہ کہہ سکیں کہ میں غلطی پر تھا۔

اس مزاج کا فائدہ یہ ہے کہ آپ ہمیشہ نئی بات سیکھتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی شخصیت کا ارتقا (personality development) بلا رکاوٹ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ غلطی نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ جہاں کل تھے، وہیں آج بھی برقرار ہیں۔ اس کے برعکس، غلطی ماننے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کی ترقی کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔ آپ کے اندر لرننگ (learning) کے پراسس میں کبھی جمود نہ آئے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page