Al-Risala · December 2018 · page 24

انقلاب کا آغاز

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴

انقلاب کا آغاز

انسانی زندگی میں کسی بڑے انقلاب کا آغاز اس وقت ہوتا ہے، جب کہ انسان کے اندر کوئی بریک تھرو (breakthrough) کا واقعہ پیش آئے۔ کوئی ایسا واقعہ جو انسان کے اندر وہ نفسیاتی بھونچال پیدا کرے جس کو برین اسٹارمنگ (brainstorming) کہا جاتا ہے۔ ایسا واقعہ جو انسان کی پوری شخصیت کو ہلا دے۔

اصل یہ ہے کہ عام حالت میں انسان کے ذہن کی تمام کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اس بنا پر اس کی تمام صلاحیتیں بالقوۃ حالت میں پڑی رہتی ہیں، ان کو بالفعل بنانے کے لیے ایک انقلابی حرکت درکار ہے۔ اس انقلابی حرکت کا نقطہ آغاز صرف ایک ہے، اور وہ ہے اعترافِ خطا۔ یعنی یہ کہہ سکنے کی ہمت کہ میں غلطی پر تھا:

I was wrong.

یہ اعترافِ خطا جتنا زیادہ شدید ہوگا، اتنا ہی زیادہ بڑا انقلاب آدمی کی شخصیت میں آئے گا۔ اس اعترافِ خطا کے اعلیٰ درجہ کو قرآن میں توبہ نصوح (التحریم، 66:8) کہا گیا ہے۔ کوئی انسان اس وقت تک ٹھہرا ہوا پانی ہے، جب تک اس کے اندر اعترافِ خطا کا بھونچال نہ آئے۔ اعترافِ خطا کی مثال ایسی ہے، جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی بڑا پتھر پھینک دیا جائے۔ یہ پتھر پانی کے پورے تالاب کو متحرک کر دیتا ہے۔ یہی توبہ نصوح ہے، اور توبہ نصوح کے بغیر زندگی میں وہ اعلیٰ شخصیت نہیں ابھرتی جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک ، 67:2) والی شخصیت کہا گیا ہے۔ نفسیات کی زبان میں اس کو اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ شخصیت (highly developed personality) کہا جاسکتا ہے۔

انسان عزتِ نفس (self respect) کے نام پر اکثر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے۔ اس کو عام طور پر لوگ عزتِ نفس کہتے ہیں۔ عزتِ نفس سے آدمی کو فرضی تسکین تو مل سکتی ہے، مگر شخصیت کے ارتقا کا پر اس جاری نہیں ہوسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page