Al-Risala · December 2018 · page 27

حکمت کی تعلیم

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷

مسئلہ کھڑا کیے بغیر توحید کے عامل بن سکیں۔

غور و تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں رسول کی نسبت سے جس چیز کو حکمت کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہی پریکٹیکل وزڈم ہے۔ پیغمبر نے اپنی پوری زندگی میں اس پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو رسول اور اصحاب رسول لڑائی اور ٹکراؤ کی تاریخ بناتے ، نہ کہ توحید کی اشاعت کی تاریخ۔

مثال کے طور پر رسول اللہ نے مکہ میں توحید کا پیغام دینا شروع کیا تو آپ نے کعبہ سے اس کا آغاز کیا۔ اس وقت کعبہ میں سینکڑوں کی تعداد میں مشرکین نے اپنے بت رکھ دیے تھے۔ اگر آپ اپنے مشن کا آغاز بتوں کو کعبہ سے نکالنے سے شروع کرتے تو یقینا آپ کا مشرکین کے ساتھ ٹکراؤ شروع ہو جاتا، اور کوئی مثبت کام انجام نہ پاتا۔ اسی طرح ہجرت کے وقت ایسا نہ ہوتا کہ آپ پر امن طور پر مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے جاتے اور نہ ہی مدینہ میں اپنے مشن کی ری پلاننگ کرتے۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا کہ آپ اور مشرکین کے درمیان نا جنگ معاہدہ تشکیل پاتا، بلکہ دونوں فریق حدیبیہ کو جنگ کا میدان بنا لیتے، وغیرہ۔

پیغمبر کی نسبت سے حکمت کا لفظ سمجھنے کے لیے ہم کو یہ طریقہ اختیار کرنا پڑے گا کہ پیغمبر نے عملاً اس حکمت کو مکہ اور مدینہ میں کس طرح اختیار کیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ کا عملی نمونہ بتائے گا کہ وہ چیز کیا تھی، جس کو قرآن میں آپ کی نسبت سے حکمت کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس آیت کی تفسیر یہ بنتی ہے کہ الکتاب، رسول اللہ کی تعلیمات کو جاننے کا نظری ماخذ ہے، اور توحید کے مشن کو عرب میں جاری کرنے کے لیے آپ نے جو طریقہ کار اختیار فرمایا، وہ آپ کا عمل ہے، جس کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الکتاب سے مراد اسلام کی نظری تعلیم ہے، اور حکمت سے مراد اس کا عملی پہلو ہے۔ دوسرے لفظ میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ یعنی نظری تعلیم کو عمل کی صورت میں ڈھالنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page