Al-Risala · December 2018 · page 31

ٹیک اوے کیا ہے

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۱

ٹیک اوے کیا ہے

ایک بار میں لندن کی ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دکان کے سامنے ایک بورڈ لگا ہوا ہے، اس بورڈ پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا، ٹیک اوے (takeaway)۔ ٹیک اوے کا لفظی مطلب ہے، لے کر جانا۔ پہلے یہ لفظ دکان کے لیے بولا جاتا تھا کہ آپ دکان پر جائیں، اور آپ وہاں اپنا مطلوب سامان مثلاً کھانے کا پیکٹ قیمت ادا کر کے لیں اور چلے جائیں۔ بعد کو یہ لفظ عام ہو کر اس مفہوم میں بولا جانے لگا کہ آپ کسی میٹنگ میں شرکت کریں، اور وہاں سے آپ کوئی آئیڈیا یا نئی بات لے کر واپس آئیں:

A key fact, point, or idea to be remembered, typically one emerging from a discussion or meeting. کوئی تقریر یا تحریر کامیاب تقریر یا تحریر اس وقت ہے، جب ایسا ہو کہ آپ اس تحریر کو پڑھیں یا کسی اجتماع میں اس تقریر کو سنیں، اور اس سے آپ کو کوئی کام کی بات یا کوئی مفید آئڈیا ملے، اور اس کو لے کر آپ واپس جائیں۔ تقریر یا تحریر کی کامیابی کا یہی معیار ہے۔ اگر اس کے برعکس معاملہ ہو، یعنی جس تقریر یا تحریر سے کوئی ایسی بات نہ ملے جو لے جانے کے قابل ہو، تو آپ نے اپنا وقت ضائع کیا۔ آپ کا پڑھنا بھی بے فائدہ تھا، اور سننا بھی بے فائدہ۔

مقرر ہو یا محرر، دونوں کو چاہیے کہ وہ بولنے یا لکھنے سے پہلے اچھی طرح سوچے، اور کوئی ایسی بات متعین کرے، جو دوسروں کو دینے کے قابل ہو۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ بات آپ واضح انداز میں بیان کر سکیں۔ اگر ایسا ہو کہ آپ نے لکھا یا کہا تو اس سے پڑھنے یا سننے والے کو کوئی لے جانے کی بات نہیں ملی تو ایسا لکھنا بھی بیکار ہے، اور پڑھنا بھی بیکار ہے۔

کسی تقریر یا تحریر کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ اس میں پڑھنے یا سننے والے کے لیے حقیقی معنی میں کوئی ٹیک اوے ہو۔ پڑھنے یا سننے والے کو کوئی ایسی بات ملے، جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو زیادہ مفید بنا سکے، جو اس کے شخصی ارتقا میں مددگار ثابت ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page