Al-Risala · December 2018 · page 35

To accept dissent as an absolute human right.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۵

ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے، جب کہ منفی اختلاف کا دونوں میں سے کسی کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں ذاتی طور پر اختلافِ رائے کو یہی درجہ دیتا ہوں۔ میں نے اپنے ذاتی تجربے سے یہ سمجھا ہے کہ اختلافِ رائے کو نہ ماننا خود اپنے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ اس لیے کہ اختلافِ رائے کے ذریعہ زیر بحث مسئلے کے مختلف پہلو کھلتے ہیں۔ اس کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ جو آدمی اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرے، وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہو گیا، اور وہ نعمت ہے ذہنی ارتقا۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے: من هو ناصحك، خير لك ممن هو مادحك (جو شخص تمہیں نصیحت کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو تمھاری تعریف کرے)۔ جو آدمی حقیقت پسند ہو، وہ یقیناً تنقید یا اختلافِ رائے کو اپنے لیے ایک نعمت سمجھے گا۔ کیوں کہ تنقید اور اختلافِ رائے ہمیشہ فکر کے نئے دروازے کھولنے والا ہے۔

تنقید یا اختلافِ رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا میرے نزدیک کوئی تقویٰ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالص علمی بات ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) موجود ہے۔ سائنٹفک ٹمپر اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کے اندر اعترافِ حقیقت (acceptance of reality) کا مزاج ہو۔ جب آپ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ آپ آزادانہ سوچیں، اور آزادانہ رائے قائم کریں تو فطرت کے قانون کے مطابق آپ کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ دوسرے شخص کو بھی یکساں طور پر اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اختلافِ رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا، گو یا حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرنا ہے۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام سائنٹفک اسپرٹ ہے۔

☆☆☆☆☆☆☆

اس دنیا میں صرف دو چیزیں ہیں جو آدمی کو متواضع بناتی ہیں۔ ایک، سائنٹفک ذہن، دوسرے متقیانہ مزاج۔ سائنٹفک ذہن علم کی معرفت سے بنتا ہے اور متقیانہ ذہن خدا کی معرفت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page