اعلان کے بغیر معاہدہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴
اعلان کے بغیر معاہدہ
قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : لا تنقضي عجائبه ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2906 ) ۔ یعنی قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے ۔ یہی بات سنتِ رسول کے بارے میں صادق آتی ہے ۔ رسول اللہ کی سنتوں میں ایسے حکمت کے پہلو ہیں ، جو کبھی ختم نہ ہوں گے ، اور آپ کے پیرو اُ ن کو دریافت کر کے اُن سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے ۔ میرے مطالعے کے مطابق ، اُنھیں سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے ، جس کو بلا اعلان معاہدہ (undeclared agreement) کہا جا سکتا ہے ۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مکہ میں کعبہ تین سوساٹھ بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر وہاں سارے عرب سے بتوں کے پرستار بتوں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے ۔ پیغمبرِ اسلام نے یہ حکمت اختیار کی کہ آپ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کے بارے میں بلا اعلان غیر جانب دار بنے رہے۔ اس طرح آپ کے اور بت کے پرستاروں کے درمیان گویا بلا اعلان ایک معاہدہ ہو گیا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ روزانہ کعبہ کے علاقے میں جاتے ، اور وہاں بتوں کے پرستاروں کو آڈینَس (audience) کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ اس حکمت نے رسول اللہ کے مخالفین کو عملاً آپ کا موید (supporter) بنا دیا۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اس سنت سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ اس حکیمانہ سنت کو جانیں ، تو وہ آج بھی اس سنت کو زندہ کر سکتے ہیں ، اور اس طرح یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مسلمان اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں ، وہ دوبارہ ان کے موید (supporter) بن جائیں گے ۔ یہ بھی غالباً اس مذکورہ حکمت کا ایک پہلو ہے ، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ( 41:34 ) ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues